Reham Khan Should be Shamefull about her book

یہ اس معاشرے کے زوال کی نشانیاں ہیں، پستی کو ظاہر کرتی ہیں، کونے کونے میں بکھری بدبودار جہالت کو عیاں کرتی ہیں۔ یہ ذہنوں کی گندگی اور سوچوں کا کوڑا کرکٹ ہے۔
چند دن پہلے مجھے تحریک انصاف کے کارکنوں کی ان گھٹیا حرکتوں پر بہت دکھ ہوا کہ وہ نواز شریف کے گھر پر حملہ کر رہے ہیں اور محترمہ کلثوم نواز کی بیماری کا طرح طرح سے مذاق اڑا رہے ہیں۔ مجھے زیب نہیں دیتا کہ میں وہ الفاظ لکھوں، جو تحریک انصاف کے کارکن اپنے مخالفین کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ میں کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ ایسے لوگ معاشرے میں کیسی بہتری لائیں گے یا لانا چاہتے ہیں؟ سرعام مغلظات دینے والے ایسے جنونی یا غیر متوازن لوگ کس منہ سے آج ریحام خان کو اخلاق کا درس دیں گے یا اقدار کی بات کریں گے؟

اور اس سے بھی زیادہ شرمندگی مجھے آج ریحام خان کے انکشافات پڑھ کر ہو رہی ہے۔ اس سے زیادہ گھٹیا حرکت اور کیا ہو سکتی ہے کہ آپ اپنے سابق شریک حیات کی خفیہ کمزوریوں کو سب کے سامنے کتابی شکل میں پیش کر دیں؟

آپ کل کو کس منہ سے اخلاقیات کی بات کریں گی؟ کل کو اگر ریحام خان کے جنسی عمل یا غسل کرتے ہوئے کی کوئی ویڈیو جاری کر دے تو آپ کیسا محسوس کریں گی؟ اور اگر ایسا کوئی آپ کا سابق رشتے دار کرے تو آپ کی کیفیت کیا ہو گی؟

آپ سیاست پر تنقید کریں لیکن کسی شخص کے نجی عیبوں پر سے پردہ اٹھانا کسی طرح سے بھی مناسب عمل نہیں ہے۔ یقین جانیے اس سے آپ کی ذہنی پستی عیاں ہوتی ہے۔ آپ نے صرف عمران خان کے کردار کو ہی نہیں بلکہ اپنی اصلیت کو بھی ظاہر کیا ہے۔

ڈئیر ریحام خان مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں آپ جب بھی اخلاق، اقدار، خواتین کی عزت، چارد اور چار دیواری کی بات کریں گی تو ہلکا سا شرمندہ ضرور ہوا کریں گی۔ اور اگر نہ بھی ہوں تو اب میرے لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہو گی۔

اور ہاں آپ کی ذہنی پستی کو دیکھ کر بھی میں اپنے اس موقف پر قائم رہوں گا کہ کل اگر کسی نے آپ کے خفیہ عیبوں پر سے پردہ اٹھایا تو میں آپ کے حق میں بولوں گا۔ نجی عیب عیاں کرنے والے کی ویسے ہی مذمت کروں گا جیسے آج آپ کی کر رہاں ہوں۔

یہ میں اس وجہ سے کہہ رہا ہوں کہ میں نے اپنی اس مختصر سی زندگی میں بہت کم لوگ ایسے دیکھے ہیں جنہوں نے کسی کو سربازار ننگا کیا ہو اور بعد میں خود ایسے کسی عمل سے محفوظ رہے ہوں۔

لیکن اس کے باوجود میری خواہش ہے کہ آپ کو پاکستان جیسے معاشرے، اپنے بچوں، رشتہ داروں، والدین، اور دوستوں کے سامنے ایسی کسی حرکت کا سامنا نہ کرنا پڑے، جس میں آپ کے نجی عیب بتائے گئے ہوں۔ میری خواہش ہے کہ لوگوں کے نجی عیبوں پر ہمیشہ پردہ ہی رہے۔

کوئی شراب پیتا ہے یا کوکین، کوئی جنسی عمل میں اچھا ہے یا برا، کوئی الٹا لیٹتا ہے یا سیدھا، یہ ہر کسی کا ذاتی معاملہ ہے۔
ذاتیات کے بجائے مسائل پر بات کیجیے اور مہذب انداز میں کیجیے۔

(Visited 371 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT