story of haroot and maroot

مسند احمد اور تفسیر نعیمی وغیرہ کی بعض روایات بیان کرتی ہیں کہ حضرت ادریسؑ کے زمانے میں ایک مرتبہ فرشتوں نے بنی آدم پر اعتراض کیا کہ یہ نہایت بدکار ہیں، ان کی جگہ ہمیں زمین پر حکومت دی جائے۔ اس پر رب کریم نے انہیں کہا کہ انسانوں کو غصے اور شہوت کی جو کمزوریاں دی گئی ہیں وہ تمہیں دی جائیں تو تم بھی گناہ کرو گے۔ فرشتے کہنے لگے کہ ہم تو گناہ کے پاس بھی نہ جائیں گے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ فرشتوں کی اس جماعت کے دو اعلی درجے کے پرہیزگار فرشتے چن کر انہیں یہ انسانی کمزوریاں دی جائیں اور زمین پر اتار دیا جائے۔ یوں ہاروت ماروت کو شہر بابل میں اتار دیا گیا۔

بابل کے لوگ ان کے پاس آتے اور ان سے جادو سیکھنے کی خواہش کرتے۔ یہ لوگوں کو خوب خبردار کر دیتے کہ جادو بڑا گناہ ہے اور سیکھ کر تم جہنم میں جاؤ گے، جو لوگ پھر بھی اصرار کرتے یہ انہیں سکھا دیتے۔ رات کو اسم اعظم پڑھ کر یہ دونوں آسمان پر چلے جاتے۔

قسمت ان کی بری تھی کہ ان کو ایک پری پیکر زہرہ نامی مل گئی کہ حسن اس کا بے مثال تھا۔ اس کے حسن کو دیکھ کر یہ دیوانے ہو گئے۔ زہرہ ان سے اسم اعظم سیکھنے کی متمنی تھی مگر یہ دونوں فرشتے اس سے انکاری تھے۔ لیکن زہرہ کے حسن نے ان پر جادو کر رکھا تھا اور وہ کسی بھی قیمت پر اسے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ زہرہ نے ان سے مطالبہ کی کہ تم شرک کرو تو میں تمہاری ہوں۔ ہاروت ماروت جانتے تھے کہ شرک ایسا گناہ ہے کہ اس کی معافی نہیں ہے۔ انہوں نے انکار کر دیا۔

اب زہرہ نے شرط پیش کی کہ ایک بچہ قتل کرو تو مجھ پر تمہیں اختیار ہے۔ ہاروت ماروت انکاری ہوئے کہ بے گناہ کو مارنا بڑا جرم ہے۔ آخر زہرہ شراب لے کر آئی اور کہا کہ یہ پی لو تو پھر جو کہو گے ویسا کروں گی۔ ہاروت ماروت نے سوچا کہ شراب پینا تو بڑا گناہ نہیں ہے۔ پی گئے۔ ہوش سے بیگانے ہوئے۔ زہرہ نے بدکاری کے بدلے ان سے اپنے بت کو سجدہ بھِی کرایا اور بچہ بھی قتل کروا دیا۔

جب انہیں ہوش آیا تو وہ کہنے لگی کہ تم نے جن دو کاموں کو کرنے سے انکار کیا تھا نشے میں مد ہوش ہونے کے بعد تم نے اس میں سے ایک کام کو بھی نہ چھوڑا۔ پھر انہیں ان گناہوں کے بدلے دنیا کی سزا اور آخرت کے عذاب میں اختیار دیا گیا تو انہوں نے دنیا کی سزا کو اختیار کرلیا۔

تفسیر نعیمی میں بچے کی جگہ شوہر قتل کروانے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہاروت ماروت دونوں اسم اعظم جانتے تھے۔ اسم اعظم پڑھ کر وہ ہر رات آسمان پر چلے جاتے تھے۔ زہرہ نے ان سے نشے کی حالت میں اسم اعظم سیکھ لیا اور جب ہاروت ماروت ہوش و حواس میں واپس آئے تو انہیں یہ بھول چکا تھا اور زہرہ اسم اعظم پڑھ کر آسمان پر چلی گئی تھی جہاں رب کریم نے اس کی روح کو زہرہ ستارے سے متصل کر دیا۔

تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ ہاروت ماروت کو بطور سزا زنجیروں سے جکڑ کر چاہ بابل میں الٹا لٹکا دیا گیا، اس کنویں میں آگ بھڑک رہی ہے اور فرشتے ہر وقت ان کو کوڑے مارتے ہیں اور پیاس سے ان کی زبانیں باہر نکلی ہوئی ہیں اور یہ قصہ سنن بیہقی، مسند امام احمد اور دیگر کتب احادیث میں بہ اسناد صحیح مروی ہے۔

ہاروت ماروت کے حشر سے عبرت پکڑ کر باقی فرشتوں نے اپنی خطا کا اقرار کیا اور زمین والے خطاکار انسانوں پر بجائے لعن طعن کرنے کے ان کے لئے دعائے مغفرت کرنے لگے۔

تو صاحبو یہ قصہ بیان کرنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مرد کیا چیز ہے، عورت کے حسن کی تپش سے تو بڑے بڑے نیکوکار فرشتے بہک جاتے ہیں اور روئے زمین پر اپنی پارسا حکومت بنانے کی بجائے چاہ بابل میں الٹے لٹک کر سزا پاتے ہیں۔

:sorce

http://www.humsub.com.pk/138609/adnan-khan-kakar-836/

یہودیوں کا عقیدہ تھا کے سلیمان ایک جادوگر تھا جسنے “ہاروت ماروت” نامی دو فرشتوں سے جادو کا علم سیکھا تھا اور جس کی وجہ سے وہ بادشاہ بن بیٹھا تھا اسی لئے وہ سلیمان علیہ السلام کو نبی نہیں مانتے بلکہ “Sent Solomon” سینٹ سلیمان کہتے ہیں اور بادشاہ تسلیم کرتے ہیں اور سلطنتِ سلیمان “The Kingdom Of Solomon” کے نام سے مخاطب کرتے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ انکا یہ بھی ماننا تھا کہ جادو کا علم اللہ تعالٰی کی طرف سے نازل کردہ ہے جو کہ دو فرشتے لوگوں کو سیکھانے پر مامور ہیں جو بابل نامی ایک شھر کے ایک کونویں میں الٹے لٹکے ہوئے ہیں اور تب تک نہیں دیتے وہ علم جب تک کہ وہ بتا نہ دیں کہ ہم تو آزمائش میں مبتلہ ہیں اور یہ جادو کرنا کفر کا کام ھے کیوں کہ یہودی بھی جادو کو کفر تسلیم کرتے تھے۔ اور یہ تمام عبارات اور افسانے ہمیں با آسانی انکی من گھڑت کتابوں میں مِل جائیں گی اور اللہ تعالٰی نے انکے اس باطل عقیدے کی نفی کی ھے اس آیت میں اور تردید فرمائی ھے کہ۔۔۔۔۔

وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَ۔ٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَ۔

وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ = سلیمان نے کفر نہیں کیا۔

وَلَ۔ٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ = بلکہ کفر تو شیاطین کرتے ہیں، کہ لوگوں کو سحر سکھاتے ہیں۔

یہاں واضح طور پر اللہ تعالٰی نے انکے باطل عقائد اور سلیمان علیہ السلام پر لگائے جانے والے الزام کی نفی اور تردید کی کہ سلیمان کوئی جادو گر نہیں تھا نہ ہی جادو کے زور پر بادشاہ بن بیٹھا تھا اور اسکے فوراً بعد انکے اگلے عقیدے کی بھی نفی فرما دی کہ۔۔۔۔۔۔۔

وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ = اور نہ ہی ہم نے نازل کیا (کوئی علم) ہاروت ماروت (نامی) فرشتوں پر۔

یعنی اللہ نے ہاروت ماروت نام کے کسی فرشتوں پر سحر نہیں اُتارا۔

وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَ = (جیسا کہ انکا ماننا ھے کہ) نہیں سکھاتے وہ کسی کو کہ جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ یہ کفر ہے اور ہم تو آزمائیش میں ہیں۔

جادو صریحاً کُفر ھے جیسا کہ خود اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ:

وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَ۔ٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا۔

تو پھر یہ عقیدہ رکھنا کہ جادو کا علم اللہ تعالٰی کی طرف سے نازل کردہ ہے جو کے دو فرشتوں پر نازل کیا گیا اور جادو اللہ کی طرف سے اتارا گیا علم ھے، کیا یہ اللہ پر بہتانِ عظیم نہ ہوا کہ اللہ تعالٰی نے کفر نازل کیا۔۔۔؟؟ ( نعوذ باللہ )

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ کَذَ بَ عَلَی اللّٰہِ۔

اس شخص سے بڑ ا ظالم کون ہو گا جس نے اللہ تعالیٰ پر جھو ٹ بولا۔

(الزمر۔32)

باقی اس متعلق جتنے بھی قصے افسانے ملتے ہیں وہ سب کے سب یہودی اور اسرائیلی روایات پر مبنی ہیں اور کوئی صحیح حدیث نہیں ہے جو اس بات کی تصدیق کرتی ہو۔

اللہ تعالٰی نے بھی ان آیات میں اس باطل عقیدے کی تردید کی ھے نہ کہ تصدیق اور یہی وجہ ہے کہ اس آیات میں “وما” ((اور نہیں)) کا مسلسل اور بالتواتر استعمال ہونا اس بات پر دلالت کرتا ھے کہ یہ رَد ہے ان باتوں اور عقائد کی اور “و” عطف لیں گے اس “وما” کے “و” کو یا پھر “و” تفسیری یہ تو ایک الگ بحث ہے مگر نتیجہ ہر حال میں ایک ہی نکلے گا کہ “وما” “ن۔۔۔افی۔۔۔ہ” ہے اس آیت میں نہ کہ “م۔۔۔وص۔۔ولہ”۔

مگر افسوس کہ اکشر مترجمین نے جہاں اس پوری آیت میں “وما” کا ترجمہ “ن۔۔۔اف۔۔۔یہ” میں ہی لیا مگر صرف ایک مقام پر “ن۔۔۔اف۔۔۔یہ” کے بجائے “موصولہ” لیا “”وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ”” اور اس طرح یہودیوں کے عقیدے کی پیروی ہو گئی، اور لوگوں نے جادو کو “برحق”، منزل من اللہ، الہامی علم سمجھنا شروع کر دیا جبکہ جادو گمراہی ہے، جھوٹ ہے، فریب ہے، دھوکہ ہے، بے اصل، بے حقیقت اور بے بنیاد ہے اور اسکی کوئی حیثیت نہیں۔

قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلِ اللَّهُ قُلْ أَفَاتَّخَذْتُمْ مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا} [الرعد: 16]

ترجمہ : آپ پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ کہہ دیجئے! اللہ۔ کہہ دیجئے! کیا تم پھر بھی اس کے سوا اوروں کو حمایتی بنا رہے ہو جو خود اپنی جان کے بھی بھلے برے کا اختیار نہیں رکھتے۔

ان آیات میں اللہ تعالی نے خوب واضح الفاظ میں یہ اعلان فرمادیا کہ اللہ کے علاوہ کوئی بھی بھلے برے اور نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں اور نہ کوئی نفع نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ ثُمَّ رَزَقَکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْطھَلْ مِنْ شُرَکَآئِ کُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ مِّنْ شَیْئٍ سُبْحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ o (روم۔۔۔۴۰ )

ترجمہ : اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تمھیں رزق دیا پھر وہ تم کو موت دیتا ہے پھر وہ تم کو زندہ کرے گا کیا تمھارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

اللہ تبارک وتعالئ ہم سب کی اصلاح فرمائے اور ہمیں ہدایت اور ایمان پر موت عطا فرمائے۔

آم۔۔۔۔۔۔۔۔ین

ج۔۔۔۔۔۔۔۔۔زاک اللہ خیرا و احسن الج۔۔۔زا

دعا کا طالب:

ابو الرع۔۔۔۔د بن ابو المُسلم

(Visited 29 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT