Why sperm Donation is banned in islam??

سائنس نے ہیومن آرگین ٹرانسپلانٹ کرکے نہ جانے کتنےلوگوں کو زندگی دی۔ ہیومن آرگین ٹرانسپلانٹ کرنے میں دل اور کڈنی سے لیکر آنکھیں تک شامل ہیں۔ اسپرم عطیہ کرنا بھی اتنا ہی اہمیت رکھتا ہے جتنا یہ سارے حصے لیکن جسم کے حصوں کے عطیہ کرنے سے کوئی نئی زندگی جنم نہیں لیتی ہے جبکہ اسپرم ڈونیٹ کرنے سے ایک نئی زندگی کی تخلیق ہوتی ہے۔

مستقل تکنیکوں سے انسان نے ایسی ایسی چیزوں کو ممکن بنادیا ہے جس کے بارے میں پہلے کوئی سوچا بھی نہیں کرتا ہوگا۔ شریعہ کے مطابق، اسپرم عطیہ کرنے والا مرد اگر شوہر نہیں ہے تو خاتون کےیوٹرس (رحم) میں ڈالنے کی اجازت نہیں ہے۔

اسلام کے قواعد کے مطابق ایک مرد کا اسپرم صرف اسی خاتون کے یوٹرس میں ڈالے جانے کی اجازت ہے جس سے اس نے نکاح کیا ہے۔ یعنی وہ اسلام کے مطابق اس کی بیوی ہے۔

اگر خاتون کسی وجوہات سے کنسیو نہیں کر پا رہی ہے تو اس کے شوہر کے اسپرم اور خاتون کے انڈے کو لیب میں فرٹیلائز کی اجازت ہے۔ جب انڈے فرٹیلائز ہو جائیں تو بھی اسے صرف اور صرف اسی خاتون کے رحم میں ڈالنے کی جازت ہے جس کا وہ تھا۔

اسلام میں اس پروسیز کو حلال بتایا گیا ہے۔ ‘ ایگ اور اسپرم’ اسی کپل کا ہونا چاہئے جس کا نکاح ہو چکا ہے۔ ‘ ایگ اور اسپرم’ کا کسی دوسرے ‘ ایگ۔اسپرم’سے تبدیل کرنا حرام ہے۔ اسلامک قانون کے مطابق ، شوہر کے علاوہ کسی اور کے اسپرم ڈونیشن سے پریگنینسی سخت منع ہے۔

آئی وی ایف کیلئے بھی کہا گیا ہے کہ اس سرجری کو کرانے والے کپل کا اسے پروسیز کرنے والے ڈاکٹر پر مکمل بھروسہ ہو، اسپرم بینکنگ ، اووا ڈونیشن اور سیروگیٹ ماں کیلئے اسلام اجازت نہیں دیتا ہے۔ اتنا ہی نہیں اسلام میں مرد کے اسپرم اور خاتون کے ایگ کومستقبل میں استعمال کرنے کیلئے فریز میں رکھوانا بھی منع ہے۔


(Visited 807 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT