تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدید مساعی

مصنفمحمد اسماعیل سلفیناشرمکتبہ نذیریہ، چیچہ وطنیصفحات248یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ4960 (PKR)ڈاون لوڈ سائز8 MB

تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدید مساعی کے نام سے مولانا اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کے مختلف اوقات میں لکھے جانے والے مضامین کا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے شاہ ولی اللہ کے مشن کی ترجمانی کرتے ہوئے مختلف مکاتب فکر کو قرآن وسنت کی طرف دعوت دینے کی کوشش کی ہے-شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے جس دور میں قرآن وسنت کی بالادستی کی فکر کو پیش کیا وہ دور بہت کٹھن دور تھا اور شاہ ولی اللہ کی تحریک کے مقابلے میں تمام مذاہب کے افراد نے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی-تقلید جامد کے ماحول میں اجتہاد کے ماحول کو پیدا کرنا اور لوگوں کو مختلف ائمہ کے فہم کے علاوہ کسی بات کو قبول نہ کرنے کی فضا میں قرآن وسنت کی بالادستی کا علم بلند کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا-شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالی نے اس دور میں اجتہاد،قرآن وسنت کی بالادستی،مختلف ائمہ کی فقہ کی ترویج اور لوگوں میں پائی جانے والی تقلید کی قلعی کو کھولتے ہوئے ان تمام چیزوں کی طرف واضح راہنمائی فرمائی-مصنف نے اپنی کتاب میں تحریک اہل حدیث کی تاریخ،اسباب،اور تحریک کے مشن پر روشنی ڈالتے ہوئے مختلف علماء کے فتاوی کو بھی بیان کیا ہے-تقلید کا مفہوم،اسباب اور تقلید کے وجود پر تاریخی اور شرعی اعتبار سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف فقہی مسائل کو بیان کر قرآن وسنت کی کسوٹی پر پرکھ کر ان کی حقیقت کو بھی واضح کیا گیا ہے-

مولانا محمد اسماعیل سلفی آف گوجرانوالہ رحمہ اللہ، منہج اہل حدیث کے تھنکر اور ترجمان تھے، ہر بات ناپ تول کر پوری احساس ذمہ داری اور یوم آخرت کے محاسبے کے ساتھ لکھتے اور بولتے تھے، وہ قلم اور قلمکاری کو رب کی نعمت اور امانت سمجھتے تھے، وہ انتہائی درجہ زیرک، بابصیرت، ذہین اور صاحب شعور تھے، ٹھیٹھ قسم کے اہل حدیث تھے،وہ عقائد و اعمال میں اتباع سنت کے قائل و عامل تھے، وہ سمجھوتے اور مداہنت کے قائل نہیں تھے اور محدثین و سلف کا قولی نہیں، عملی نمونہ تھے، جو کچھ لکھا وہ حرف معتبر، جو کچھ کہا وہ قول مستند،

تحریک آزادئ فکر اور شاہ ولی اللہ محدّث دہلوی کی تجدیدی مساعی ان کی شاہکار اور بے نظیر کتاب ہے، یہ کتاب در اصل مختلف مضامین و مقالات پر مشتمل ہے لیکن ایسے علمی شہہ پارے اور جواہر پارے صدیوں میں وجود میں آتے ہیں، کتاب کیا ہے علم کا خزینہ، فقہ الحدیث کا روشن نمونہ، شاہ ولی اللہ کے متجددانہ افکار و نظریات کی شاندار وجاندار ترجمانی و تشریح، اہل حدیث کے منہج اور مسلک کو دیکھنا ہو تو اسٹیج کی ہنگامہ آرائی و مقابلہ آرائی سے ہٹ کر اس کتاب میں دیکھیے، یہاں ہر چیز جملہ فقہاء و محدّثین کے کلی احترام کے ساتھ بالکل خالص اور نتھری ہوئی ہے،

اس علمی کتاب کو بر صغیر کی تحریک اہل حدیث کا اگر منثور و منہاج اور دستور العمل کہا جائے تو بجا ہوگا، کاش اہل حدیث حضرات کی نوجوان نسل اسے حرز جان بناتی تو ماحول کی اتھل پتھل کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی، برصغیر میں عربی زبان و ادب کی نمائندہ شخصیت اور جامعہ سلفیہ بنارس کے رئیس، ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ نے اس کتاب کی تعریب #حرکتہ الانطلاق الفکری و جہود الشاہ ولی اللہ الدھلوی فی التجدید” کے نام سے کی ہے جو عرب و ہند و پاک میں یکساں مقبول ہے،
اس کتاب کا ایک محقق اڈیشن مکتبہ الفھیم مئو ناتھ بھنجن یو، پی سے مطبوع ہے جس پر مرحوم ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری کا چالیس صفحات کا ایک جاندار علمی مقدمہ ہے، اور حافظ عبد اللطیف اثری حفظہ اللہ کی تحقیق و تعلیق ہے، بعد میں یہ کتاب مزید اضافوں اور حافظ شاہد محمود حفظہ اللہ کی شاندار تحقیق و تعلیق کے ساتھ پاکستان سے بھی شائع ہوگئ ہے، ان کی دوسری اہم کتاب “حجیت حدیث ” ہے ، جس کے مندرجات نے میری زندگی میں عظیم انقلاب برپا کیا، اور مجھے ایک عظیم رفیع الشان مفکر کے #فکری انحرافات کو حقیقی طور پر سمجھنے میں کافی مدد ملی، مولانا سلفی آف گوجرانوالہ رحمہ اللہ کی جملہ تحریریں #ادب الخلاف اور سلیقہ اختلاف کا شاہکار و نادر نمونہ بھی ہیں، جملہ علماء اور سلف کا احترام میں نے مولانا گو جرانوالہ کی کتابوں ہی سے سیکھا، ادب میں مشتاق احمد یوسفی اور مذہب میں مولانا اسماعیل سلفی کی تحریروں کا کوئی جواب ہی نہیں،
یہ چند باتیں اس لیے یاد آگئیں کہ آج حافظ صاحب کی وال پر مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کو زندہ چلتے پھرتے دیکھا،
آپ بھی دیکھیے _

ابو اشعر فھیم

🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻
حکمتیں نصیحتیں۰۰۰۰۰۰۰!

مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ ایک دفعہ حاجیوں کو رخصت کرنے کے لیے لاہور تشریف لے گئے۔ نماز کا وقت ہوگیا تو مولانا اسٹیشن کے باہر میدان میں جماعت کروانے لگے جس پر ایک بوڑھے شخص نے کہا کہ میری نماز آپ کے پیچھے نہیں ہوتی۔ آپ نے رومال اٹھا کر کندھے پر ڈالا اور پیچھے ہٹ گئے اور کہا بابا جی! آپ جماعت کرائیں میری نماز آپ کے پیچھے ہوجاتی ہے۔ وہ بوڑھا شرمندہ ہوگیا اور معافی مانگی اور پھر اصرار کر کے حضرت کی اقتدا میں جماعت ادا کی۔
ایک دفعہ مولانا سلفی وضو کر رہے تھے۔ جب جرابوں پر مسح کیا تو ایک شخص یہ دیکھ کر کہنے لگا: اگر آپ جرابوں پر مسح کر کے امامت کروائیں گے تو میں آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھوں گا۔ یہ سن کر مولانا نے جرابیں اتار کر پاؤں دھوئے اور پھر جرابیں پہن لیں۔
نماز سے فراغت کے بعد حضرت سلفی نے اسے بلایا اور کتاب منگوا کر جرابوں پر مسح کی حدیث دکھائی جس کے بعد وہ شخص صحیح مسئلہ بھی سمجھ گیا اور اپنے رویے پر نادم بھی ہوا۔
ایسے ہی ایک دفعہ مولانا سلفی نے ایک عالم دین کو رومال ہونے کے باوجود ننگے سر نماز پڑھتے دیکھا تو کہا کہ بھئی رومال سر پر رکھ کر نماز پڑھا کرو!
جواباً وہ صاحب گویا ہوئے کہ آپ مجھ سے مناظرہ کر لیں!
مولانا سلفی نے فرمایا کہ مجھے مناظرہ کرنے کی ضرورت ہے نہ پروا، آپ بے شک اپنا تہمد اتار کر نماز پڑھیں_
( #حافظ شاھد رفیق ) کی وال سے شکریہ کے ساتھ.

ابو اشعر فھیم

کتاب ڈاون لوڈ کرنے کے لیے نیچھے لنک پر کلک کریں

Download Book

(Visited 133 times, 1 visits today)

Also Watch